ماموں زاد

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ماموں کا بیٹا یا بیٹی، میمرا یا ممیری۔ "۔"اسے اس کے ننھیال میں بیاہا جائے مگر اسے اپنے ماموں زاد سے چڑ تھی۔"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ٤٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'ماموں' کے بعد فارسی مصدر 'زادن' سے صیغۂ امر 'زاد' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩١ء کو "بوستانِ خیال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ماموں کا بیٹا یا بیٹی، میمرا یا ممیری۔ "۔"اسے اس کے ننھیال میں بیاہا جائے مگر اسے اپنے ماموں زاد سے چڑ تھی۔"      ( ١٩٨٠ء، ماس اور مٹی، ٤٧ )